ہم تو سمجھ رہے تھے فقط ساکھ ہی گئی
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -
- Posts: 482
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
ہم تو سمجھ رہے تھے فقط ساکھ ہی گئی
یہ کلام ۲۹ دسمبر ۲۰۲۴ میں لکھا گیا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم تو سمجھ رہے تھے فقط ساکھ ہی گئی
عزت گئی تو آبرو اور لاج بھی گئی
پہلے تو بے دخل کیا بستی کے لوگوں کو
پھر جشن بھی منایا گیا خوب پی گئی
دامن کو تار تار کیا سب نے مل کے اور
ہمدردیاں جتا کے قبا پھر سے سی گئی
جن کو سنہرے خواب دکھائے گئے سدا
وقت آنے پر انہی سے نظر پھیر لی گئی
کچھ اس قدر نفاق ذدہ ہے معاشرہ
ہر سُو منافقت کو کھلی چھوٹ دی گئی
اپنی بقا کی جنگ لڑٰی جس بھی دور میں
اس میں بس ایک دوسرے کی جان لی گئی
مقصد سے ہٹ کے وقت سبھی رائیگاں گیا
بیکار زندگی ہوئی جتنی بھی جی گئی
ہم عمر بھر نہ آپ کے قابل ہوئے خیالؔ
جب مر گئے تو نظر کرم ہم پہ کی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- وقت آنے پر انہی سے نظر پھیر لی گئی.jpg (112.61 KiB) Viewed 14 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)