ہماری قربانیوں کا قصّوں کا کیا بنے گا

Kuhnah mashq ShoAraa kaa kalaam jo beHr meiN hounaa zaroori hei

Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar

Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 476
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

ہماری قربانیوں کا قصّوں کا کیا بنے گا

Post by ismail ajaz »


یہ کلام ۲۲ ستمبر ۲۰۲۴ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے مابین قسموں وعدوں کا کیا بنے گا
وہ عہدو پیماں وہ سب ارادوں کا کیا بنے گا

زمانے بھر میں تمہارے بارے میں گفتگو ہے
ہماری قربانیوں کا قصّوں کا کیا بنے گا

تم اس طرح سے تو پھیر کر منہ نہ جاؤ ہم سے
تمہاری اس بےرخی سے اپنوں کا کیا بنے گا

ستارے ہم توڑ کر فلک سے زمیں پہ لائیں
زمین پر مسکراتے پھولوں کا کیا بنے گا

ہر ایک ذی روح اس جہاں میں ہے نامکمل
تمہی بتاؤ تمہارے سپنوں کا کیا بنے گا

غَرَض کو لے کر ہم ایک دوجے سے مل تو لیں گے
بدون الفت پھر ایسے رشتوں کا کیا بنے گا

فدا ہوئے ہم جو مسکرا کر کہیں کسی پر
تمہاری نفرت تمہاری باتوں کا کیا بنے گا

خدا کے گھر میں بھی تم بتوں کو پکارتے ہو
تمہاری توحید اور سجدوں کا کیا بنے گا

خیالؔ مطلب پرست دنیا میں جی رہے ہو
تمہارے کردار اور جذبوں کا کیا بنے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
Attachments
ہماری قربانیوں کا قصّوں کا کیا بنے گا.jpg
ہماری قربانیوں کا قصّوں کا کیا بنے گا.jpg (72.26 KiB) Viewed 2013 times

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply