Ghazal - radeef - Khauf - Tanwir Phool
Posted: Sat Jan 10, 2026 1:03 am
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غزل ( ردیف : خوف)
دل کے جو کمزور ہیں ، پیہم ہیں وہ بیمار خوف
ہر گھڑی محصور رہتے ہیں پس دیوار خوف
طفل جو پڑھنے گیا تھا ، سہما سہما سا لگا
وہ تھا گم صم ،جانے کیوں چہرے پہ تھے آثار خوف
جنگ ہوتی آئی ہے اکثر برائے تخت و تاج
شاہ کے سر پر ہے افسر یاکہ ہے دستار خوف
کھل کے آیا سامنے ، گویا بنا ہے شیر وہ
جو تھا مار آستیں ، وہ بن گیا ہے مارخوف
ہم کو ہے اس پر بھروسا جو نگہباں ہے سدا
ہم نہیں رکھتے کبھی ہیں سر پہ اپنے بار خوف
جب صحاب فیل آئے ، شہ (صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم)کے دادا نے کہا
رب کعبہ دور کردیتا ہے سب آزار خوف
خواہشیں کرتا ہے پوری ، بھوک میں دیتا ہے رزق
امن ہے وہ بخشتا ، ہوتی ہے جب یلغار خوف
کیا رموز عشق جانے بادشاہت کا جلال
حسن کی دیوی کھڑی تھی برسر دربار خوف
پھول !اس رب کو پکارو جو ہے خیرالماکرین
ہوگا پھر مسمار فضل رب سے ہر کہسار خوف
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ)
غزل ( ردیف : خوف)
دل کے جو کمزور ہیں ، پیہم ہیں وہ بیمار خوف
ہر گھڑی محصور رہتے ہیں پس دیوار خوف
طفل جو پڑھنے گیا تھا ، سہما سہما سا لگا
وہ تھا گم صم ،جانے کیوں چہرے پہ تھے آثار خوف
جنگ ہوتی آئی ہے اکثر برائے تخت و تاج
شاہ کے سر پر ہے افسر یاکہ ہے دستار خوف
کھل کے آیا سامنے ، گویا بنا ہے شیر وہ
جو تھا مار آستیں ، وہ بن گیا ہے مارخوف
ہم کو ہے اس پر بھروسا جو نگہباں ہے سدا
ہم نہیں رکھتے کبھی ہیں سر پہ اپنے بار خوف
جب صحاب فیل آئے ، شہ (صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم)کے دادا نے کہا
رب کعبہ دور کردیتا ہے سب آزار خوف
خواہشیں کرتا ہے پوری ، بھوک میں دیتا ہے رزق
امن ہے وہ بخشتا ، ہوتی ہے جب یلغار خوف
کیا رموز عشق جانے بادشاہت کا جلال
حسن کی دیوی کھڑی تھی برسر دربار خوف
پھول !اس رب کو پکارو جو ہے خیرالماکرین
ہوگا پھر مسمار فضل رب سے ہر کہسار خوف
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ)