Tarhi Ghazal - Nida Fazili ke misray par - Tanwir Phool
Posted: Fri Feb 06, 2026 4:51 am
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طرحی غزل
ظلمت شب سے نہ خائف ہو ، سویرا ہوگا
صبح کا نور ہی رحمت کا حوالہ ہوگا
اشک آنکھوں سے بہیں ، سر ہو ترا سجدے میں
قربت حق کا سبب تیرا وہ سجدہ ہوگا
( بحوالہ سورہ العلق کی آخری آیت)
چاند روپوش ہوا کالی گھٹا میں فورا
اس نے اے رشک قمر ! تجھ کو ہی دیکھا ہوگا
علم کا نور ملا غار حرا سے ہم کو
دل میں ہم اس کو بسائیں تو اجالا ہوگا
دھاندلی سے ہے بنا آج وہ نااہل امیر
شہر میں اب تو شب و روز تماشا ہوگا
آدمی دہر میں ہوتا ہے اکیلا پیدا
اور جب جائے گا عقبی کو ، وہ تنہا ہوگا
نکہت گل سے مہکتی ہے سخن کی وادی
نخل اردو نے اسے خوب سجایا ہوگا
پھول کے شعر میں تنویر ادب کی ہے نہاں
" روشنی ختم نہ کر ، آگے اندھیرا ہوگا"
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )
طرحی غزل
ظلمت شب سے نہ خائف ہو ، سویرا ہوگا
صبح کا نور ہی رحمت کا حوالہ ہوگا
اشک آنکھوں سے بہیں ، سر ہو ترا سجدے میں
قربت حق کا سبب تیرا وہ سجدہ ہوگا
( بحوالہ سورہ العلق کی آخری آیت)
چاند روپوش ہوا کالی گھٹا میں فورا
اس نے اے رشک قمر ! تجھ کو ہی دیکھا ہوگا
علم کا نور ملا غار حرا سے ہم کو
دل میں ہم اس کو بسائیں تو اجالا ہوگا
دھاندلی سے ہے بنا آج وہ نااہل امیر
شہر میں اب تو شب و روز تماشا ہوگا
آدمی دہر میں ہوتا ہے اکیلا پیدا
اور جب جائے گا عقبی کو ، وہ تنہا ہوگا
نکہت گل سے مہکتی ہے سخن کی وادی
نخل اردو نے اسے خوب سجایا ہوگا
پھول کے شعر میں تنویر ادب کی ہے نہاں
" روشنی ختم نہ کر ، آگے اندھیرا ہوگا"
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )