Ghazal - radeef - thaa - Tanwir Phool
Posted: Fri Feb 13, 2026 7:30 am
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غزل
جسے دل نے سمجھا کہ تسکین جاں تھا
اسی کو مرا ساتھ بار گراں تھا
ہوئی ہم کو محسوس خالق کی قربت
جہاں بھی گئے ہم ، وہاں آسماں تھا
گلہ اس میں طوفان و بارش کا کیا ہے
ترا شاخ نازک پہ ہی آشیاں تھا
نظر اس کی محدود ، وسعت سے عاری
وہ دیوانہ محصور کوئے بتاں تھا
وہ مخمور نظریں ، وہ پرکیف منظر
بتاؤں تمھیں کیا ، وہ کیسا سماں تھا
خدا نے دیا عزم و ہمت کا جذبہ
ہمیں ہرقدم پر ملا امتحاں تھا
یہ ہے پھول دست خزاں کا تشدد
بیاباں جو ہے وہ کبھی گلستاں تھا
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ)
غزل
جسے دل نے سمجھا کہ تسکین جاں تھا
اسی کو مرا ساتھ بار گراں تھا
ہوئی ہم کو محسوس خالق کی قربت
جہاں بھی گئے ہم ، وہاں آسماں تھا
گلہ اس میں طوفان و بارش کا کیا ہے
ترا شاخ نازک پہ ہی آشیاں تھا
نظر اس کی محدود ، وسعت سے عاری
وہ دیوانہ محصور کوئے بتاں تھا
وہ مخمور نظریں ، وہ پرکیف منظر
بتاؤں تمھیں کیا ، وہ کیسا سماں تھا
خدا نے دیا عزم و ہمت کا جذبہ
ہمیں ہرقدم پر ملا امتحاں تھا
یہ ہے پھول دست خزاں کا تشدد
بیاباں جو ہے وہ کبھی گلستاں تھا
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ)