Ghazal -radeef -CharaaGh - Tanwir Phool
Posted: Sat Jun 13, 2026 2:58 pm
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غزل ( ردیف = چراغ)
نبی ( صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) کے فیض سے ہیں صدق کے ، صفا کے چراغ
جہاں میں آج بھی روشن ہیں کربلا کے چراغ
حبیب حق کی محبت رہے سدا دل میں
ہر ایک گام رہیں ضوفشاں وفا کے چراغ
عجیب ان میں ہے گہرائی اور تابانی
رخ حسیں پہ ہیں آنکھیں کہ مہ لقا کے چراغ
پکارتے ہیں اسے زیست کے مراحل میں
ہمارے خانہ ء دل میں ہیں "ربنا "کے چراغ
سبھی نے روز ازل تھا سنا سوال الست
ہر ایک دل میں نہاں وعدہ ء بلی کے چراغ
ہمارے بعد نئی روشنی کی آمد ہے
سحر کے وقت یہ کہتے ہیں جھلملا کے چراغ
جو چاہے یاں سے چلا جائے جاں بچانے کو
کہا حسین نے سب سے یہی بجھا کے چراغ
مگر کوئی نہ گیا واں سے لیل عاشورہ
یہ دیکھا شاہ نے دوبارہ جب جلا کے چراغ
نبی ہمارے ہیں بدرالدجی ، سراج منیر
بنایا رب نے مہ و مہر کو سماکے چراغ
قلم سے علم سکھانے کا سلسلہ قائم
کہ نور علم ہمیں دیتے ہیں حرا کے چراغ
ذرا سمجھ لو کہ تلقین عزم کرتے ہیں
ہوا کے سامنے اے پھول ! ٹمٹما کے چراغ
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )
غزل ( ردیف = چراغ)
نبی ( صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) کے فیض سے ہیں صدق کے ، صفا کے چراغ
جہاں میں آج بھی روشن ہیں کربلا کے چراغ
حبیب حق کی محبت رہے سدا دل میں
ہر ایک گام رہیں ضوفشاں وفا کے چراغ
عجیب ان میں ہے گہرائی اور تابانی
رخ حسیں پہ ہیں آنکھیں کہ مہ لقا کے چراغ
پکارتے ہیں اسے زیست کے مراحل میں
ہمارے خانہ ء دل میں ہیں "ربنا "کے چراغ
سبھی نے روز ازل تھا سنا سوال الست
ہر ایک دل میں نہاں وعدہ ء بلی کے چراغ
ہمارے بعد نئی روشنی کی آمد ہے
سحر کے وقت یہ کہتے ہیں جھلملا کے چراغ
جو چاہے یاں سے چلا جائے جاں بچانے کو
کہا حسین نے سب سے یہی بجھا کے چراغ
مگر کوئی نہ گیا واں سے لیل عاشورہ
یہ دیکھا شاہ نے دوبارہ جب جلا کے چراغ
نبی ہمارے ہیں بدرالدجی ، سراج منیر
بنایا رب نے مہ و مہر کو سماکے چراغ
قلم سے علم سکھانے کا سلسلہ قائم
کہ نور علم ہمیں دیتے ہیں حرا کے چراغ
ذرا سمجھ لو کہ تلقین عزم کرتے ہیں
ہوا کے سامنے اے پھول ! ٹمٹما کے چراغ
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )