Page 1 of 1

Bazm-e-Aaina-e-Sukhan ke liey 2 Kalam - Tanwir Phool

Posted: Thu Jul 09, 2026 3:57 pm
by Tanwir Phool
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طرحی کلام برائے مشاعرہ ء آئینہ ء سخن
گیارہ جولائی ۲۰۲۶ء

نہ سمجھی عقل انسانی ، مقام کبریا کیا ہے؟
خرد محدود ہے اس کو حقیقت کا پتا کیا ہے
کیا پیدا تجھے کس نے ؟ بتا اے منکر خالق
کہاں سے تو یہاں آیا ہے ؟ تیری انتہاکیا ہے؟
وہ شہ رگ سے بھی ہے نزدیک ، دل کے حال سے واقف
وہ سب کچھ جاننے والا، بتا اس سے چھپا کیا ہے؟
جمیل اللہ خود ہے اور جمال اس کو پسند آئے
( اللہ جمیل و یحب الجمال)
وہی ہر حسن کا خالق ، بشر ! تو سوچتا کیا ہے ؟
خدا کو چھوڑ کر غیروں کی پوجا کرنے والے ! تو
بتا اصنام باطل سے بھلا تجھ کو ملا کیا ہے ؟
گنہ کا بوجھ ہے سرپر، تری بخشش کا طالب ہوں
تری رحمت کے آگے اے خدا ! بار خطا کیا ہے
یہ دونوں ہیں فقط اک نکتہ ء رحمت کی تفسیریں
محمد مصطفی کیا ہیں ، محمد کا خدا کیا ہے
ملا مشق سخن کو حضرت اقبال کا مصرع
" خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے "
یہ ہے دروازہ ء کعبہ ، کھڑا ہے ملتزم پر تو
خدا سے مانگ سب کچھ پھول ! یاں تو دیکھتا کیا ہے

( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ)

----------------------------------

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ردیفی غزل برائے مشاعرہ ء آئینہ ء سخن
گیارہ جولائی ۲۰۲۶ء

مسلم جو ہیں وہ خود ہیں مسلمان کے خلاف
یہ قوم ایک ، اس کی ہیں پہچان کے خلاف
ملا بھی اپنا فہم و فراست سے دور ہے
فرقے بنائے اس نے ہیں قرآن کے خلاف
دو شہر جل کے راکھ ہوئے ، سب کو یاد ہے
دشمن نے بم گرائے تھے جاپان کے خلاف
اعراف میں بتایا ہے اللہ نے ہمیں
( سورہ الاعراف ، آیت نمبر ۲۷)
شیطان کا قبیلہ ہے انسان کے خلاف
اللہ کے سہارے کرے یہ مقابلہ
کشتی کا بادبان ہے طوفان کے خلاف
خناس ڈالے وسوسہ جو رب کی لیں مدد
اپنا ضمیر اٹھتا ہے شیطان کے خلاف
رب نے کیا سوال ہے یہ فصل نور میں
تم کیوں نہ بولے مومنو ! بہتان کے خلاف ؟
( سورہ ء نور ، آیت نمبر16)
عشاق بن کے آئے چمن میں ہوس پرست
بھونرے ہوئے ہیں سنبل و ریحان کے خلاف
گل چیں یہاں ہے آگیا مالی کے بھیس میں
اے پھول ! باغباں ہے گلستان کے خلاف
( تنویرپھول ، نیویارک : امریکہ)