TarHi Naat - radeef -AiRyaaN - Tanwir Phool
Posted: Thu Jul 30, 2026 12:11 am
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم
طرحی نعت
وہ سراپا نور ہیں ، ان کی منور ایڑیاں
خالق عالم کی صناعی کا مظہر ایڑیاں
سب سے پہلے نور ان کا رب نے ہے پیدا کیا
بے گماں ان کی ہیں رشک ماہ و اختر ایڑیاں
جب لحد سے میں اٹھوں ، لپٹوں نبی ( صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم )کے پاؤں سے
کاش ! بڑھ کر چوم لوں میں وہ مطہر ایڑیاں
شاہ کے نقش قدم پر جو چلا وہ کامیاب
راہ حق دکھلا رہی ہیں بن کے رہبر ایڑیاں
وہ ہیں تنویر مجسم ، وہ سراپا روشنی
" ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں"
اپنے کاندھوں پر اٹھا کر چل رہے تھے یار غار
وہ سفر ہجرت کا ، شہ نے رکھیں ان پر ایڑیاں
چہل و شش آیت پڑھو تم سورہ ء احزاب کی
وہ سراج نور ہیں اور مہر انور ایڑیاں
وہ بنا طیبہ ، اسے جنت کا گوشہ مل گیا
جگمگا دیتی ہیں یثرب کا مقدر ایڑیاں
ان کے قدموں سے لپٹ جاؤں ، تمنا ہے مری
روز محشر ان کی چھولے دیدہ ء تر ایڑیاں
وہ حبیب رب عالم ، صاحب معراج ہیں
کس بلندی تک ہیں پہنچی وہ موقر ایڑیاں
اے کلیم اللہ ! اتارو جوتیاں تم طور پر
عرش اعظم تک گئیں اللہ اکبر ! ایڑیاں
پھول ! میں رطب اللساں ہوں آج باغ نعت میں
ہیں تصور میں مرے وہ رشک گوہر ایڑیاں
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ)
نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم
طرحی نعت
وہ سراپا نور ہیں ، ان کی منور ایڑیاں
خالق عالم کی صناعی کا مظہر ایڑیاں
سب سے پہلے نور ان کا رب نے ہے پیدا کیا
بے گماں ان کی ہیں رشک ماہ و اختر ایڑیاں
جب لحد سے میں اٹھوں ، لپٹوں نبی ( صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم )کے پاؤں سے
کاش ! بڑھ کر چوم لوں میں وہ مطہر ایڑیاں
شاہ کے نقش قدم پر جو چلا وہ کامیاب
راہ حق دکھلا رہی ہیں بن کے رہبر ایڑیاں
وہ ہیں تنویر مجسم ، وہ سراپا روشنی
" ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں"
اپنے کاندھوں پر اٹھا کر چل رہے تھے یار غار
وہ سفر ہجرت کا ، شہ نے رکھیں ان پر ایڑیاں
چہل و شش آیت پڑھو تم سورہ ء احزاب کی
وہ سراج نور ہیں اور مہر انور ایڑیاں
وہ بنا طیبہ ، اسے جنت کا گوشہ مل گیا
جگمگا دیتی ہیں یثرب کا مقدر ایڑیاں
ان کے قدموں سے لپٹ جاؤں ، تمنا ہے مری
روز محشر ان کی چھولے دیدہ ء تر ایڑیاں
وہ حبیب رب عالم ، صاحب معراج ہیں
کس بلندی تک ہیں پہنچی وہ موقر ایڑیاں
اے کلیم اللہ ! اتارو جوتیاں تم طور پر
عرش اعظم تک گئیں اللہ اکبر ! ایڑیاں
پھول ! میں رطب اللساں ہوں آج باغ نعت میں
ہیں تصور میں مرے وہ رشک گوہر ایڑیاں
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ)