Page 1 of 1

2 GhazlaiN - Tanwir Phool

Posted: Mon Oct 26, 2026 2:22 am
by Tanwir Phool
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غزل ( ردیف : دھول)

کیا قیمتی رہی ہے مرے اس سفر کی دھول
چہرے کو نور دے گئی طیبہ نگر کی دھول

انساں بنا ہے خاک سے، اس میں نہیں ہے شک
قسمت میں اس کی لکھ دی گئی دربدر کی دھول

کس کشمکش میں قلب ہے، چہرے دھواں دھواں
رخ پر مسافروں کے جمی رہگزر کی دھول

میداں میں پھیلی دھوپ تھی ، گرد و غبار بھی
موسم تھا گرم ، یاد ہے اس دوپہر کی دھول

اسرا کی شب میں محو تفکر تھا آسماں
ان ( صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم)کی یہ خاک پا ہے کہ نور قمر کی دھول

رستہ مری نگاہ میں ہے اس دیار کا
رہبر بنی ہے شہر منور کے در کی دھول

اے پھول ! ان پرندوں کو کس نے سجھایا یہ
وہ پھڑ پھڑا کے جھاڑتے ہیں بال و پر کی دھول
( تنویرپھول)


بسم اللہ الرحمن الرحیم
طرحی غزل

آنکھیں ہوئی ہیں خیرہ حسینوں کے شہر میں
حیرت زدہ نگاہ دریچوں کے شہر میں

بستی کے رہنے والے بنے یاں حقیر ہیں
عزت نہیں ہے ان کی ، امیروں کے شہر میں

کہتا ہے مسکرا کے ہمیں چودھویں کا چاند
ڈھونڈو نہ تارے ماہ جبینوں کے شہر میں

ملت میں تفرقہ ہے پڑا ان کی ذات سے
فرقوں کا جمگھٹا ہے خطیبوں کے شہر میں

کیسے بجھائے آگ شکم کی ، ہے مضطرب
مسکین رو رہا ہے بخیلوں کے شہر میں

فاقوں سے مر رہے ہیں جو کم حیثیت ہیں لوگ
"گھر بار بک گیا ہے شریفوں کے شہر میں"

باغ ادب میں کھلتے ہیں گلہائے رنگا رنگ
اے پھول ! ہم ہیں آئے ادیبوں کے شہر میں
( تنویر پھول)