Page 1 of 1

4 Qit'aat - Tanwir Phool

Posted: Mon Oct 26, 2026 2:40 am
by Tanwir Phool
بسم اللہ الرحمن الرحیم
( قطعہ )
پھول ! فریاد سنی رب نے تو بھیجی ہے بہار
کیا ہے بلبل کا فغاں ، نالہ ء رنجور ہے تلخ
شہد ہے شیریں بہت ، اس کی ہے دی جاتی مثال
ذائقہ نیم کا ، حنظل کا تو مشہور ہے تلخ
( تنویرپھول)


بسم اللہ الرحمن الرحیم
( قطعہ )
کہا پھول ! شیطاں نے یہ نوح سے
پیا میں نے ، آدم نے یہ جام تلخ
بچو ان سے ، ہیں یہ برائی کی جڑ
حسد اور لالچ کا انجام تلخ


قطعہ
رات کی تاریکیاں ہیں ہر طرف چھائی ہوئی
ہو گئی ہیں ساری گلیاں کیسی ویران اور اجاڑ
پھول ! اس دنیا کی وادی میں بہت ہیں خواہشیں
آگے انساں کے ہے پیہم آرزوؤں کا پہاڑ
( تنویر پھول)

(قطعہ)
ہم تو واقف ہیں تیری فطرت سے
تیرا اپنا ہے دیکھا بھالا رخ
آج حیرت میں تو نے ڈالا ہے
دیکھتے ہم ہیں اک نرالا رخ
( تنویر پھول)