Page 1 of 1

کلام سلیم کاوش

Posted: Fri Feb 19, 2016 6:54 pm
by Muzaffar Ahmad Muzaffar
خامشی میں چاہ کے کچهہ سلسلے بڑهتے رہے
خامشی پر خامشی کے قہقہے بڑهتے رہے

گفتگو اک مسکراہٹ میں سمٹ کر رہ گئی
اور پهر ایسے ہوا کہ فاصلے بڑهتے رہے

ہم بظاہر آشنا تهے مخلص و ہمراز بهی
پهر دلوں کے درمیاں کیوں وسوسے بڑهتے رہے

ہم رہے پر عزم لیکن منزلیں پنہاں رہیں
ہم فقط چلتے رہے اور راستے بڑهتے رہے

عشق ہو یا دل کو لاحق فکر ہائے روزگار
لاکهہ سلجهائے مگر یہ مسئلے بڑهتے رہے

زندگی کی اس غزل میں نام تیرا تها ردیف
ہاں مگر پہلو بہ پہلو قافیے بڑهتے رہے

ہم نے قرطاس دعا پر نام تیرا کیا لکها
مختصر تحریر تهی پر حاشیے بڑهتے رہے

اب کے تنہائی نے کاوش معجزہ ہی کر دیا
بے تعلق بهی رہے اور رابطے بڑهتے رہے

(سلیم کاوش - 15 فروری 2016)