کلام سلیم کاوش
Posted: Fri Feb 19, 2016 6:54 pm
خامشی میں چاہ کے کچهہ سلسلے بڑهتے رہے
خامشی پر خامشی کے قہقہے بڑهتے رہے
گفتگو اک مسکراہٹ میں سمٹ کر رہ گئی
اور پهر ایسے ہوا کہ فاصلے بڑهتے رہے
ہم بظاہر آشنا تهے مخلص و ہمراز بهی
پهر دلوں کے درمیاں کیوں وسوسے بڑهتے رہے
ہم رہے پر عزم لیکن منزلیں پنہاں رہیں
ہم فقط چلتے رہے اور راستے بڑهتے رہے
عشق ہو یا دل کو لاحق فکر ہائے روزگار
لاکهہ سلجهائے مگر یہ مسئلے بڑهتے رہے
زندگی کی اس غزل میں نام تیرا تها ردیف
ہاں مگر پہلو بہ پہلو قافیے بڑهتے رہے
ہم نے قرطاس دعا پر نام تیرا کیا لکها
مختصر تحریر تهی پر حاشیے بڑهتے رہے
اب کے تنہائی نے کاوش معجزہ ہی کر دیا
بے تعلق بهی رہے اور رابطے بڑهتے رہے
(سلیم کاوش - 15 فروری 2016)
خامشی پر خامشی کے قہقہے بڑهتے رہے
گفتگو اک مسکراہٹ میں سمٹ کر رہ گئی
اور پهر ایسے ہوا کہ فاصلے بڑهتے رہے
ہم بظاہر آشنا تهے مخلص و ہمراز بهی
پهر دلوں کے درمیاں کیوں وسوسے بڑهتے رہے
ہم رہے پر عزم لیکن منزلیں پنہاں رہیں
ہم فقط چلتے رہے اور راستے بڑهتے رہے
عشق ہو یا دل کو لاحق فکر ہائے روزگار
لاکهہ سلجهائے مگر یہ مسئلے بڑهتے رہے
زندگی کی اس غزل میں نام تیرا تها ردیف
ہاں مگر پہلو بہ پہلو قافیے بڑهتے رہے
ہم نے قرطاس دعا پر نام تیرا کیا لکها
مختصر تحریر تهی پر حاشیے بڑهتے رہے
اب کے تنہائی نے کاوش معجزہ ہی کر دیا
بے تعلق بهی رہے اور رابطے بڑهتے رہے
(سلیم کاوش - 15 فروری 2016)