ہم دل و جگر لیے کھڑے ہیں التماس میں
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -
- Posts: 436
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
ہم دل و جگر لیے کھڑے ہیں التماس میں
قارئین کی ِخدمت میں خیال کا آداب تین سال پرانا کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا اپنی آرا سے نوازیے شکریہ
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم علاج کے لیے بھٹک رہے تھے آس میں
بھیڑیے ملے ہمیں تهے چارہ گر لباس میں
زندگی میں ہر طرف جو درد ہے رواں دواں
لکھ دیا گیا تھا داستاں کے اقتباس میں
دوریاں لیے ہوئے گزار دی جو زندگی
اختلاف بڑھ گیا تھا سب غلط قیاس میں
جانتے نہیں ہیں وہ ہمارے اب خلوص کو
دیکھتے ہیں آج کل ہمیں جو التباس میں
غیر سے نبھا رہے ہیں دوستی جنابِ من
ہم دل و جگر لیے کھڑے ہیں التماس میں
نفرتیں نہ پالیے حضور شرم کیجیے
اول فول بک رہے ہیں آپ تو بھڑاس میں
آپ کو غرور اپنے آپ پر ہے کس لیے
آب اک اچھل رہا ہے آپ کی اساس میں
مانا آپ صاحبِ ادب خیالؔ ہیں مگر
بات پُر اثر رہے تو کیجیے مٹھاس میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- بھیڑیے ملے ہمیں تهے چارہ گر لباس میں.jpg (106.62 KiB) Viewed 100 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)