Page 1 of 1

نفرت کو ہوا دیتے ہو الفاظ بدل کر

Posted: Thu Nov 21, 2024 9:33 pm
by ismail ajaz

یہ کلام ۲۱ جون ۲۰۲۳ میں لکھا گیا تھا

قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آشوبِ جہاں نے ہمیں رکّھا ہے مسل کر
حالات بھی رکھتے ہیں ہمیں روز کُچل کر

اپنی ہی کہی بات سے پھر جاتا ہوں اکثر
میں خود کو بدل دیتا ہوں ماحول میں ڈھل کر

تم لاکھ کہو خود کو مہذب و معزز
نفرت کو ہوا دیتے ہو الفاظ بدل کر

تم کس لیے رہتے ہو خفا ہم سے ہمیشہ
ہم تم سے جبھی ملتے ہیں ہر بار سنبھل کر

مانا کہ تمہیں ہم نہیں بھاتے کسی قیمت
اوقات سے باہر تو نہ یوں آؤ نکل کر

اِترائی ہوئی چال جوانی کا بھرم ہے
شرمندہ نہ پیری میں کہیں ہونا پھسل کر

اعلیٰ وہی انسان ہے جو شیریں زُباں ہے
گفتار میں تلخی تو عیاں ہوتی ہے جل کر

پہچان مری میرے ہے کردار میں شامل
پگھلا ہُوا سونا ہی توکندن بنے ڈھل کر

جو کہنا ہے شفقت سے محبت سے کہو تم
مت بات خیالؔ ایسے کرو زہر اگل کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ