Page 1 of 1

مذاق کرنے اُڑانے میں فرق ہوتا ہے

Posted: Wed Nov 27, 2024 9:26 pm
by ismail ajaz

یہ کلام ۵ اکتوبر ۲۰۲۳ میں لکھا گیا تھا

قارئین کرام آداب عرض ہیں ، ایک تازہ کلام کے ساتھ حاضرِخدمت ہوں امید ہے پسند آئے گا

عرض کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ایک جیسا لہو مثلِ عرق ہوتا ہے
تو کیوں مزاج میں سب کے ہی فرق ہوتا ہے

سمندروں کی جو گہرائی سے نہیں واقف
وہ بے خبرلبِ ساحل پہ غرق ہوتا ہے

پلک جھپکنے میں ہو جاتا ہے یہاں کیا کیا
کہ حادثہ لیے رفتا رِبرق ہوتا ہے

وہ کامیاب ہے جس کو ہے فکرِ فردا کا
بھلے سے رشتہ جڑا غرب شرق ہوتا ہے

ڈبونے لگتے ہیں سب مل کے اپنی کشتی کو
جبھی تو زیست کا بیڑا بھی غرق ہوتا ہے

مذاق کیجیے لیکن یہ دھیان میں رکھیے
مذاق کرنے اُڑانے میں فرق ہوتا ہے

مناؤ سالگرہ پر خیالؔ بھولو مت
لباس اجل کا نہیں زرق برق ہوتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ