Page 1 of 1

تمہیں ملی نہیں توفیق کھٹکھٹانے کی

Posted: Fri Dec 06, 2024 11:22 pm
by ismail ajaz


یہ کلام ۲۳ نومبر ۲۰۲۳ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام کے ساتھ آداب ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے خوب آپ کی عادت ہمیں نچانے کی
ہر ایک زاویے سے ہم کو آزمانے کی

سبھی نے تنہا ہمیں کر دیا زمانے میں
سزا ملی ہے ہمیں تم سے دل لگانے کی

غلام لوگ ہیں ہم جھک کے سب سے ملتے ہیں
ہمیں مجال نہیں اپنا سر اُٹھانے کی

جہاں کسی کا بنا آشیاں گلستاں میں
فلک کو فکر ہوئیبجلیاں گرانے کی

تھا مان تم پہ مگر تم بھی ساتھ چھوڑ گئے
تمہیں بھی لگ گئی آخر ہوا زمانے کی

نہیں قبول انہیں آپ کی محبت جب
پڑی ہے آپ کو کیا الفتیں جتانے کی

وہ ایک در کہ جسے سارے کھٹکھٹاتے ہیں
تمہیں ملی نہیں توفیق کھٹکھٹانے کی

خیالؔ رکھیے فقط اپنے کام سے مطلب
کہ لت بُری ہے ہر اک شے میں ٹانگ اڑانے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ