بھٹکتا کیسے مدد کے لیے تُو در در ہے
Posted: Fri Dec 06, 2024 11:27 pm
یہ کلام ۱۱ دسمبر ۲۰۲۳ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام آداب عرض ہیں ۔ ایک تازہ کلام ملاحظہ فرمائیے
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زباں کے طنز میں شامل جو تیز نشتر ہے
تو لفظ لفظ بہت دلشگاف خنجر ہے
تم اُس سے گھر کا پتہ پوچھتے ہو کیوں آخر
تلاش جس کو ہے گھر کی جو خود سے بے گھر ہے
بجز خدا کے مددگار کون ہے تیرا
بھٹکتا کیسے مدد کے لیے تُو در در ہے
زمانہ دیکھ رہا ہے نگاہِ عبرت سے
غرور خاک میں ملتا ہُوا جو منظر ہے
تُو آدمی ہے مگر آدمی نہیں ہے تُو
غلام ہے تُو اگر نفس تیرا رہبر ہے
حصولِ دنیا تری زندگی کا ہے مقصد
پھر آخرت میں نہیں تیرا کوئی دلبر ہے
سفر سے پہلے سفر کی تُو کر لے تیّاری
پھر اس کے بعد مسافر سفر حسیں تر ہے
جو آستیں میں چھپایا ہے تاش کا پتّہ
خیالؔ آپ کی چالاکیوں کا مظہر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ