تو پھر نہ ہو گی کبھی میری دوستی تم سے
Posted: Sat Dec 07, 2024 12:16 am
یہ کلام ۱۸ جنوری ۲۰۲۴ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے تم سے چین و سکوں اور ہے ہنسی تم سے
مری تو زیست میں شامل ہے ہر خوشی تم سے
مرے خلوص کو ٹُھکرا دیا اگر تم نے
تو پھر نہ ہو گی کبھی میری دوستی تم سے
میں جانتا ہوں تمہیں مجھ سے ہی محبت ہے
ہے میرے دل میں محبت کی روشنی تم سے
جو تم ہو ساتھ تو کیا اور چاہیے مجھ کو
کہ پوری زیست کی ہوتی ہے ہر کمی تم سے
کبھی تو تم بھی ذرا مُسکرا کے دیکھو مجھے
کہ میرے ہونٹوں کی مسکان ہے سجی تم سے
میں جی رہا ہوں تمہاری ہی بس محبت میں
کہ زندگی کی مری سانس ہے جڑی تم سے
محبتوں کے عِوَض نفرتیں مجھے دو گے
توقّع میری نہیں اسطرح رہی تم سے
جو بات کرتے ہو تم مجھ سے یوں خفا ہو کر
وہ بات میں نے کبھی بھی نہیں ہے کی تم سے
بجز تمہارے کسی کی نہیں مجھے خواہش
کہ میری زندگی ہوتی ہے زندگی تم سے
خیالؔ زندگی ساری تمہی سے ہے منسوب
کبھی ہے غم تو کبھی اس میں ہے خوشی تم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ