اک ایسا معمہ جو حل ہو گیا
Posted: Wed Apr 02, 2025 8:16 pm
یہ کلام ۱۵ جنوری ۲۰۲۵ میں لکھا گیا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک ایسا معمہ جو حل ہو گیا
وہ سب جھوٹ تھا جو بھی کل ہو گیا
محبت میں نفرت کے اظہار پر
دماغ آدمیت کا شل ہو گیا
جلا ڈالا خود کا جو یوں آشیاں
ٹھکانہ کہیں تھا اٹل ہو گیا
غریب اپنے گھر سے ہوا در بدر
قیامت نما ایسا پل ہو گیا
کیا خود کو ہی قتل مقتول نے
وساوس کا دل میں دخل ہو گیا
ہوا اس قدر جینا دشوار کیوں
کہ مرنا ہی آساں عمل ہو گیا
بنے لفظ آپس میں مل کرحروف
تو مصرعے سے مصرع غزل ہو گیا
چلی نفرتوں کی ہے کیسی ہوا
پنپنا بڑا جاں گسل ہو گیا
خرافات میں گھر گیا آدمی
تو کردار میں بھی بدل ہو گیا
تھا کیچڑ سے نکلا ہوا اک خیال
نکھرتا ہوا کیا کنول ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ