TarHi Ghazal - to daikho - Tanwir Phool
Posted: Fri Jun 13, 2025 5:28 am
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طرحی غزل
ذرا خانہ ء دل میں آ کے تو دیکھو
جو ہے اجڑی بستی ، بسا کے تو دیکھو
مزہ آئے گا عشق میں بے خودی کا
مگہ سے نگہ تم لڑا کے تو دیکھو
بناتے رہیں گے نئے آشیاں ہم
" نشیمن پہ بجلی گرا کے تو دیکھو"
تمھارے لئے دیکھو ، کرتے ہیں کیا کیا
ہمیں وقت پر آزماکے تو دیکھو
ملے گی تمھیں قربت حق یقینا
( بحوالہ سورہ علق کی آخری آیت)
عقیدت سے سجدے میں جا کے تو دیکھو
مہ و مہر ہوں گے خجل اور نادم
نقاب اپنے رخ سے اٹھا کے تو دیکھو
سنو پھول ! برساؤ اشعار کے گل
گلستاں سخن کا سجا کے تو دیکھو
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )
طرحی غزل
ذرا خانہ ء دل میں آ کے تو دیکھو
جو ہے اجڑی بستی ، بسا کے تو دیکھو
مزہ آئے گا عشق میں بے خودی کا
مگہ سے نگہ تم لڑا کے تو دیکھو
بناتے رہیں گے نئے آشیاں ہم
" نشیمن پہ بجلی گرا کے تو دیکھو"
تمھارے لئے دیکھو ، کرتے ہیں کیا کیا
ہمیں وقت پر آزماکے تو دیکھو
ملے گی تمھیں قربت حق یقینا
( بحوالہ سورہ علق کی آخری آیت)
عقیدت سے سجدے میں جا کے تو دیکھو
مہ و مہر ہوں گے خجل اور نادم
نقاب اپنے رخ سے اٹھا کے تو دیکھو
سنو پھول ! برساؤ اشعار کے گل
گلستاں سخن کا سجا کے تو دیکھو
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )