Page 1 of 1

Ghalib ki zameen maiN Ghazal - Tanwir Phool

Posted: Mon Jul 07, 2025 2:40 am
by Tanwir Phool
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غالب کی زمین میں غزل
رازق نے دیا رزق کا تحفہ مرے آگے
دیتا ہے وہی آب مصفا مرے آگے
اللہ ! دعا تجھ سے ہے ، توفیق عمل دے
سرکار دوعالم (ص) کا ہے اسوہ مرے آگے
اخبار ہو ، ٹی وی ہو ، دکھاتے ہیں نئے رنگ
آتا ہے سیاست کا تماشا مرے آگے
قربت ہے ملی یار کی ، پرکیف ہیں لمحے
یا کوئی گل تازہ ہے مہکا مرے آگے
ہمزاد مرا مجھ کو بتاتا ہے کئی راز
اک خواب جو دیکھا تھا ، وہ آیا مرے آگے
بھائی سے لڑے بھائی تو آجاتا ہے فورا
ہابیل سے قابیل کا رشتہ مرے آگے
کچھ فیض ملے مجھ کو ، تمنا ہے یہ میری
رکھا ہے بزرگوں کا اثاثہ مرے آگے
دل جھوم اٹھا لذت دیدار سے میرا
تھا خواب میں اس بت کا سراپا مرے آگے
یاد آیا کسی کا مجھے معصوم تبسم
اے پھول! کھلا جب کوئی غنچہ مرے آگے
( تنویرپھول ، نیویارک : امریکہ )