Page 1 of 1

جو بھی آیا ہے اسے لوٹ کے جانا ہے خیالؔ

Posted: Wed Aug 13, 2025 10:14 pm
by ismail ajaz

بھائی
کراچی
اللہ نے تمہیں دیا تھا 1992 میں تمہارا عروج تھا کراچی میں تمہاری اجازت کے بغیر کوئی چڑیا پر نہیں مار سکتی تھی پھر تمہارے لوگوں نے تمہارے جیسے ایک احساس محرومی کے شکار شخص کو محسن انسانیت قرار دیا تم یہ بھول گئے کہ محسن انسانیت صرف رسول پاک علیہ صلوات و سلام کی ذات ہے تم غرور و تکبر کی حدیں عبور کر گئے تمہاری آنکھ کے اشارے پر لوگوں کی زندگی کے فیصلے ہونے لگے تم کراچی کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے تم نے اپنے نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم کتاب چھین کر کلاشنکوف تھما دی جن میں ظرف نہیں تھا ان مادر پدر آزاد جوانوں نے تمہارے ہی گھروں میں گھس کر تمہارے ہی گھروں کے لوگوں بچوں بوڑھوں عورتوں بچیوں کو یرغمال بنا کر انہیں لوٹا انہیں قتل کیا ان کی لاشیں بوریوں میں بند کر کے نالوں اور کچرا کنڈیوں میں پھینکوا کر دہشت کو فروغ دیا
تم نے آئے روز اسٹرائیک کالز کروا کر کیماڑی سے ٹول پلازہ اور گھارو سے گڈاپ لسبیلہ تک پہیہ جام ہڑتالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلا کر کراچی کی اکانومی کراچی کی ترقی کراچی کی آزادی اور کراچی کے استحکام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور سنگین جرائم کی آماجگاہ بنایا تم نے اور تمہارے کارندوں نے ہزاروں لڑکیوں کا ریپ کیا ہزاروں خوبرو جوانوں کو موت کی گھاٹ اتارا دیا تم نے اپنے ہی لوگوں کے گلے کاٹے ان کے گھروں میں نقب لگائی تمہارے ظلم و بربریت پر اللہ نے تمہارے دلوں کو پھاڑ دیا تمہیں تقسیم کر دیا پھر تم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے تم نے ایک دوسرے کے خون کی ندیاں بہا دیں پھر اللہ نے تم پر فوج کو مسلط کیا اسے نے تمہیں کچل کر رکھ دیا تمہیں کرش کر دیا تم اپنی جان بچا کر لندن فرار ہو گئے تمہارے لوگوں نے تمہارا ٹیلی فونک خطاب قرآن و حدیث سے بھی زیادہ ادب احترام اور فوقیت کے ساتھ سنا تم اینٹی پاکستان ہو گئے اینٹی فوج ہو گئے تم فوج کے خلاف اول فول بکنے لگے تم نے لندن کا پچھلے 33 سال کا خرچہ کراچی حیدرآباد سکھر اور دیگر علاقوں کے رہنے والوں سے چندے کی مد میں پورا کروایا آج تمہارے لوگوں پر وڈیرے مسلط ہیں
کسی نے کیا خوب کہا ہے خوش قسمتی ایک بار دروازے پر دستک دیتی ہے دروازہ نہ کھلنے پر لوٹ جاتی ہے مگر بدقسمتی اس وقت تک دروازہ پیٹتی رہتی ہے جب تک کہ دروازہ کھل نہیں جاتا اور وہ اندر گھس کر اس صاحب مکان کو برباد نہیں کر دیتی جو اس مکان میں آباد ہوتا ہے
تم سے اب اللہ نے کراچی واپس لے لیا ہے آج تم پر ظالم لوگ مسلط ہیں
آج تم دنیا سے جا رہے ہو موت تمہیں لینے تمہارے دروازے پر کھڑی ہے جو تمہاری سانسیں گن رہی ہے
تمہارے پاس وقت اب بھی ہےمگر بہت کم ہے تم اللہ سے اپنے خاتمہ ایمان کی دعا کرو
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
جو بھی آیا ہے اسے لوٹ کے جانا ہے خیالؔ
وہ ہے خوش بخت جیسے موت پہ ایمان ملا
اسماعیل اعجاز خیال