Page 1 of 1

Tarhi Ghazal(Rahat Indori ke misray par) - Tanwir Phool

Posted: Fri Aug 15, 2025 3:51 am
by Tanwir Phool
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طرحی غزل
( راحت اندوری کے مصرع طرح پر)


تمھیں نظر میں سدا آنجناب رکھتے ہیں
جسے وہ چاہیں اسے فیضیاب رکھتے ہیں

کہیں بھی جاؤ ، خدا ساتھ ساتھ رہتاہے
( سورہ الحدید ، آیت نمبر 4)
" کہیں بھی جاؤ ، فرشتے حساب رکھتے ہیں "

فلک پہ چاند ہے ، وہ رشک اس پہ کرتا ہے
ہم ایسا ساتھ سدا ماہتاب رکھتے ہیں

خدا نے جس کی حفاظت کا ہے لیا ذمہ
ہم اپنے پاس اک ایسی کتاب رکھتے ہیں
( سورہ الحجر ، آیت نمبر 9)

طواف بیت خدا کا سدا رہے جاری
ہمیشہ باز یوں کعبے کا باب رکھتے ہیں

ذہین لوگ سمجھتے ہیں مدعا سب کا
ہر اک سوال کا واضح جواب رکھتے ہیں

ہمیں پسند ہے ، لہجے میں پھول ! ہو نرمی
ہم اپنا لہجہ مثال گلاب رکھتے ہیں

( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )