جواہلِ محبت وفا دار تھے بے وفا ہو گئے ہیں
Posted: Mon Sep 01, 2025 9:04 pm
یہ کلام ۸ اگست ۲۰۲۵ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام آداب ، ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غدّار تھے ملک و ملّت کے جو رہنما ہو گئے ہیں
کہ شہوت پرست آج مرشد ہیں جو پارسا ہوگئے ہیں
ہوس یوں محبت کا اوڑھے لبادہ پنپنے لگی ہے
جواہلِ محبت وفا دار تھے بے وفا ہو گئے ہیں
محبت کی راہوں پہ چلنا تھا مشکل تو سب اہلِ خانہ
جہاں جس کا رخ تھا اُدھر موڑ کر منہ جدا ہو گئے ہیں
بھروسا کسی پر کرے کوئی کیسے یہاں ہر طرف ہی
تھے اپنے پرائے جو سب آج کل اک دغا ہو گئے ہیں
جنہیں بھی ملا اختیار اس زمیں پر وہ فرعون بن کر
اکڑ کر زمیں پر خُدا بن گئے ہیں خُدا ہو گئے ہیں
بڑھیں مشکلیں اتنی جنتی سہولت ملی زندگی کو
کہ دُشواریوں سے گھِرے راستے جا بجا ہو گئے ہیں
ہمیں آپ کے ماسِوا کوئی بھایا نہیں زندگی بھر
جبھی جان و دل سے فقط آپ پر ہم فدا ہو گئے ہیں
گھروں سے نکل کر کہاں جا رہے ہیں بھٹکتے مسافر
خیالؔ ان کی منزل کے سب راستے لا پتہ ہو گئے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
اسماعیل اعجاز خیال