ٹکلا ہمیں بنا دیا حالات نے خیال
Posted: Thu Sep 11, 2025 7:33 pm
یہ 1992 کی بات ہے میں گھارو کے ٹو پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا مجھے کورنگی زمان ٹاؤن سے قائدآباد لانڈھی پہنچ کر اپنی کمپنی کی گاڑی پکڑنی پڑتی تھی اور واپس وہیں اتر کر مجھے زمان ٹاؤن کے لیے سولہ ای جو کے ٹی سی کی بس تھی پکڑنی ہوتی تھی جس سے میں کورنگی 4 بس اسٹاپ پر اتر کر زمان ٹاؤن پیدل جایا کرتا تھا جو لگ بھگ ایک کلو میٹر دور تھا میں قائدآباد پہنچا میرے پاس وقت تھا میں نے سوچا کیوں نہ بال کٹوا لیے جائیں میں حجام کی دکان پر پہنچا جہاں حجام صاحب ایک خان صاحب تھے میں نے خان صاحب کو سلام کیا اور بیٹھ گیا خان صاحب میری طرف مڑے اور مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کیا کرے گا ؟
میں ہڑبڑا کر کھڑا ہوگیا کہ خان صاحب بھلا اور کیا کرے گا تمہارا دکان پر
خان صاحب مسکرائے
ساٹنگ ( سیٹنگ ) یا پر کاٹنگ( کٹنگ)
میں نے عرض کیا خان صاحب ساٹنگ کر دو تم کاٹنگ پتہ نہیں کیسا کرے گا
خیر خان صاحب نے میرے سر پر کٹورا رکھا اور اس کے اطراف میں جو بھی بال تھے اڑا دیے مطلب جو حصہ کٹورے کے نیچے تھا وہ رہنے دیا اور جو اس کٹورے کی رینج سے باہر تھا اڑا دیا
صاحبان خان صاحب نے مجھے کھجور
میں کبھی خود کو دیکھتا کبھی خان صاحب کو
میرا حال ایسا ہی تھا جیسے رضیہ بھرے بازار لٹ گئی غنڈوں میں پھنس
میں اندر ہی اندر بری طرح تلملا رہا تھا سٹپٹا رہا تھا بلبلا رہا تھا اپنی قسمت کو رو رہا تھا مگر کرتا بھی تو کیا کیا کرتا
اظہار بھی مشکل ہے چپ رہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں آف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
33 سال کے بعد اب کہانی بدل گئی ہے وہی بال جنہیں خان صاحب نے کٹورا رکھ بچایا تھا اور اطراف کو اڑایا تھا آج اطراف کے بال سلامت ہیں اور کٹورے والے اڑ گئے ہیں
ٹکلا ہمیں بنا دیا حالات نے خیال
جھالر سجائے بیٹھے ہیں ہم سر کے چار سو
خیال