بھرے بازار یوں 🥚 انڈے نہ ماریے ہم کو
Posted: Thu Sep 11, 2025 7:36 pm
ویسے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے میں
ایک ریسٹورنٹ میں گیا وہاں ویٹر کسٹمر آرڈر کچھ اس طرح ڈیلیور کر رہا تھا
ٹیبل 5 پر بڑے صاحب کو دودھ پتی ملائی مار کر مارو
چودھری صاحب کو ٹیبل پر چکن تندوری مارو
فلاں صاحب کو دال ماش تڑکا مار کر مارو
پیچھے والی ٹیبل پر دل کلیجی گردہ مکس مارو
خان صاحب کو ہاف فرائی
مگر قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ کچا
ویسے یاد آیا
کسی دانش ور نے قوم سے کہا تھا کہ قومیں سڑکوں اور پلوں سے نہیں بنتیں قومیں تو
پھر اس دانش ور نے خود کو پیٹرن انچیف قرار دیا
خیر بات ہو رہی تھی
کتنی عجیب بات ہے دنیا
یہ
مگر اب ہمیں تاریخ کو بدلنا ہو گا ہمیں
سنا ہے چاہت فتح علی خان کو بھی بے تکا کان پکاؤ گانے گانے اور سنانے کی پاداش میں قوم انڈٖے
خیال مارنا ہے ماریے کوئی دشمن
بھرے بازار یوں
خیال