Page 1 of 1

اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۷ میں خیالؔ کا آداب

Posted: Wed Oct 01, 2025 10:30 pm
by ismail ajaz



اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۷ میں خیالؔ کا آداب

عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا پیام آ کے اجل نے سُنا دیا
تھا ایک پنچھی قید قفس میں اُڑا دیا

ہم نے تمام عمر گزاری اسی طرح
جو غم ہوا اسے غمِ جاناں بنا دیا

تم نے ہمیں نظر سے گرایا ہے جس قدر
ہم نے تمہارا مرتبہ اتنا بڑھا دیا

کہتے رہے سبھی سے کہ کیا ہم غلام ہیں
اور پھرغلام بن کے بھی ہم نے دِکھا دیا

تم نے ہمیں دِکھائے سدا سبز باغ اور
ہم نے یقین تم پہ کیا سب لُٹا دیا

گردش میں آ گیا تھا ستارہ جناب کا
قسمت نے آسماں سے زمیں پر بٹھا دیا

مطلب نکال کر ہمیں سب بھولتے گئے
جن کوبھی ہم نے زندگی کا گُر سکھا دیا

اب آپ کو ہماری ضرورت نہیں خیالؔ
اپنی نظر سے آپ نے ہم کو گرا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی محبتوں کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ