ہمیں زمانے نے الفت سے بولتے دیکھا
Posted: Fri Oct 03, 2025 12:16 am
قارئین کرام ایک تازہ کلام کے ساتھ خیال کا آداب ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے بڑوں کو یہاں ہم نے ڈولتے دیکھا
پَرایک پنچھی کو پنجرے میں تولتے دیکھا
درندگی کو شرافت کے بھیس میں ہم نے
کمینگی کے سبھی باب کھولتے دیکھا
بھلے سے آپ نے نفرت سے منہ کو پھیر لیا
ہمیں زمانے نے الفت سے بولتے دیکھا
کسی کے واسطے اپنی ہی جان کو کیسے
کسی نے کس کو ہے خطروں کو مولتے دیکھا
وہ اپنی بات سے پھرتے ہیں بعد میں لوگو
جنہیں اکڑتے ہوئے جگ نے بولتے دیکھا
حضور آپ کو خود پر بہت تھا ناز مگر
سبھی نے آپ کا ایمان ڈولتے دیکھا
جسے زبان ملی ہے وہ بولتا ہے یہاں
خیالؔ کس نے ہے گونگوں کو بولتے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی محبتوں کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ