اردو بندھن کے مشاعرہ ۲۸ میں خیال
Posted: Mon Oct 20, 2025 9:35 pm
قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۲۸ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
رقیبوں سے الفت وہ فرما رہے ہیں
سبق آ ج تک ہم نے سیکھا نہ ان سے
فریب آ ج تک ان سے ہم کھا رہے ہیں
کوئی مُسکرا کر ہمیں دیکھتا ہے
تو وہ اس کو ہم سے ہی لڑوا رہے ہیں
محبت کی بولی نہیں جانتے وہ
جنہیں ہم محبت بھی سکھلا رہے ہیں
یہ کیسی ہوا چل پڑی ہے چمن میں
گلاب آج کانٹوں کو مہکا رہے ہیں
جو مرنے کی یا مارنے کی ہیں باتیں
ہم ان میں حسیں زندگی پا رہے ہیں
زمانہ ہمیں بھول پائے گا کیسے
کہ بدلاؤ ہم وقت میں لا رہے ہیں
خیالؔ آؤ ان کو گلے سے لگا لیں
جو منہ پھیر کر ہم سے یوں جا رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ