اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۳ میں خیال
Posted: Wed Oct 22, 2025 4:47 pm
قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۳ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خود ہی روٹھ جاتے ہیں وہ خود ہی مان جاتے ہیں
عجب طرفہ تماشا ہے کہ رو کر مسکراتے ہیں
کبھی وہ دور جاتے ہیں کبھی وہ پاس آتے ہیں
ہمارا توڑتے ہیں دل جو ہم سے دل لگاتے ہیں
پرانے زخم بھرنے بھی نہیں پاتے کہ وہ پھر سے
دلِ ناداں کو تازہ زخموں کی صورت سجاتے ہیں
ستم ایجاد ایسے ہیں کہ ہم سے کر کے وہ نفرت
محبت کی توقع کا بھی حق ہم پرجتاتے ہیں
نظر ترچھی بھنویں سکڑی ہوئیں ماتھے پہ بل ڈالے
وہ خود کو اک حسیں پیکر جمال اکثر بتاتے ہیں
سمجھتے ہیں وہ خود کو اک مہذب آدمی جگ میں
کہ جن کی گفتگو سے دل ہمارے ٹوٹ جاتے ہیں
تعق ہے رقیبوں سے محبت ہے مگر ہم سے
ہمارے درمیاں رہ کر ہمیں وہ آزماتے ہیں
دکھاوے کی محبت سے بھلی ہے آپ کی نفرت
خیالؔ اس دوغلی الفت سے تو ہم باز آتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ