ثواب میں مبالغہ آرائی ، ضعیف و موضوع روایات کا چلن رہی ہے لہذا ایسی روایات کو تبلیغِ دین کا ذریعہ بنانا درست نہیں ہے ، اس سے دین کا اصل حلیہ بگڑ جاتا ہے اور ایک مسلمان اپنے اصل فرائض سے غافل ہو جاتا ہے۔
درج بالا روایت ، کسی بھی حوالے کے بغیر ہے جبکہ کم سے کم اس کتابِ حدیث کا نام تو دیا جانا چاہئے جس میں یہ روایت درج ہو تاکہ اس روایت کی صحت یا ضعف کے بارے میں معلوم کیا جا سکے ۔ اس کے علاوہ یہ روایت نقل و عقل کے خلاف بھی ہے۔
اسلام میں شہید کا رتبہ بہت ہی بڑا ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جو شہید ہوتا ہے اس کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ جو ثواب شہید کو ملے اس سے کئی گنا ثواب ایک عام مسلمان کو کسی سنت پر عمل کرنے سے مل جائے ۔۔۔ تو پھر اس سے تو شہادت اور اس کے ثواب کی خصوصیت ہی ختم ہو کر رہ جائے گی۔ اور قرآن و حدیث میں جو جگہ جگہ شہید و شہادت کی اہمیت و رتبے کا بیان ہوتا ہے وہ بالکل بےاثر ہو کر رہ جائے گا اور مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کی حقیقی عظمت و رفعت ختم ہو جائے گی۔
ذرا سوچئے کہ نادانستگی میں ہم غیرمسلموں کی چالوں کا شکار تو نہیں ہو رہے ؟؟
اور اگر یہ روایت درست ہو تو بھی اس میں سنت کو زندہ کرنے کا بیان ہوا ہے ناکہ سنت پر عمل کرنے کا۔
سنت کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ، کوئی سنت جو متروک ہو گئی ہو یا ختم ہو گئی ہو ، اس پر عمل کر کے اس کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ کیا ہم میں سے کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ۔۔۔ پانی پینے کی وہ چھ سنتیں ، جن کا اس مضمون میں بیان ہوا ہے ، آج ختم ہو چکی ہیں ؟ بےشک معاشرے میں کچھ لوگ آج ان سنتوں پر عمل نہیں کرتے ، مگر ان چند لوگوں کی بےعملی کا یہ مطلب تو نہیں نکلتا کہ ہم ان چھ سنتوں کے ختم ہو جانے کا فیصلہ صادر کر دیں؟ [/align]