اسے بتاو کہ بخت آج اس کا سو رہا ہے
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -
- Posts: 482
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
اسے بتاو کہ بخت آج اس کا سو رہا ہے
یہ کلام ۲۸ مارچ ۲۰۲۵ میں لکھا گیا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کہہ رہا تھا رلاؤں گا سب کو رو رہا ہے
اسے بتاو کہ بخت آج اس کا سو رہا ہے
وہ نفرتوں کا پیامبر تھا سو نفرتوں میں
شکار نفرت کا ہو کہ الفت کو کھو رہا ہے
مداخلت تم خدا کے کاموں میں کر رہے تھے
مخالفت میں خدا کا قانون ہو رہا ہے
خود اس کے چہرے پہ بدنمائی کی تہہ جمی تھی
جو دوسروں کو پکڑ کے منہ ان کا دھو رہا ہے
بڑا کوئی بول کب خدا کو پسند ہو گا
خدا کے لہجے میں بول کر خوش تو ہو رہا ہے
تو توڑ کر دل نہ اپنی حرکت سے باز آیا
کہ ترش لفظوں کے دل میں نشتر چبھو رہا ہے
خدا نے اس کو زمین سے عرش پر بٹھایا
نہ راس آیا اسے وہ رتبہ تو کھو رہا ہے
ہر ایک شخص اپنا بویا خود سے ہی کاٹے گا کل
خیالؔ تو نے بھی کاٹنا ہے جو بو رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- جو کہہ رہا تھا رلاؤں گا سب کو رو رہا ہے.jpg (123.28 KiB) Viewed 78 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)