اپنے ماضی کا سفر زیست کو آسان ملا
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -

- Posts: 516
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
اپنے ماضی کا سفر زیست کو آسان ملا
یہ کلام ۲۹ جولائی ۲۰۲۵ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزمائش سے جو پل گزرا وہ حیران ملا
اپنے ماضی کا سفر زیست کو آسان ملا
ساری دنیا میں ہمیں ہیں جو فقط انساں ہیں
ماسوا اپنے ہمیں کوئی نہ انسان ملا
لوگ مرنے کے لیے گھر سے نکل آتے ہیں
زندہ بچنے کا اگر گھر میں نہ امکان ملا
مشکلیں جتنی تھیں جینے کی ہوئی ہیں آسان
اور جینے کا نہیں دل میں جب ارمان ملا
آدمی آدمی سے تنگ نظر آتا ہے
آدمی آدمی کو بن کے جو حیوان ملا
زندگی ناز و نِعَم سے تھی گزاری سب نے
قبر میں بھی ہے کوئی چین کا سامان ملا
مختصر وقت لیے دنیا میں سب آئے ہیں
ہر کوئی موت سے دنیا میں ہے انجان ملا
جو بھی آیا ہے اسے لوٹ کے جانا ہے خیالؔ
وہ ہے خوش بخت جیسے موت پہ ایمان ملا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی محبتوں کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- ہر کوئی موت سے دنیا میں ہے انجان ملا.jpg (107.57 KiB) Viewed 714 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)