اردو بندھن کے مشاعرہ ۳۵ میں خیالؔ کا آداب

Tarhi Moshaairah -ShoAaraa aur Shayeraat kii TabAaazmayi ke liye

Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar

Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

اردو بندھن کے مشاعرہ ۳۵ میں خیالؔ کا آداب

Post by ismail ajaz »




اردو بندھن کے مشاعرہ ۳۵ میں خیالؔ کا آداب

عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمی ملے ہیں انہیں دیکھو آزمانے کو
تڑپ رہے ہیں سبھی ہم سے دل لگانے کو

خفا خفا جو رہے ہم سے کل تلک وہ لوگ
سنا ہے آئے ہیں ملنے ہمیں منانے کو

جو کر رہے تھے ہمیں ہر جگہ نظر انداز
انہوں نے رکھ لیا ہم کو ہے گھر بچانے کو

ہمارا بجنے لگا ڈنکا ہے زمانے میں
یقین آ گیا ہم پر ہے کیا زمانے کو

پڑوسیوں کو ہیں رہتیں شکایتیں ہم سے
لگے گا وقت ہمیں ان کو اب پٹانے کو

عدو نے ہم سے محبت کا ہے کیا اظہار
ہے جان دینی ہمیں اس کی جاں بچانے کو

ہمارے پاس محبت کی ہے فراوانی
نجانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو

خیالؔ ہونے لگی ہے تمہاری بھی عزت
جو کھویا ظرف رہے گا نہ منہ دِکھانے کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی محبتوں کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply