ہم نے فضا میں دیپ جلائے اُمِید کے

Kuhnah mashq ShoAraa kaa kalaam jo beHr meiN hounaa zaroori hei

Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar

Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

ہم نے فضا میں دیپ جلائے اُمِید کے

Post by ismail ajaz »



قارئین کرام ایک تازہ کلام کے ساتھ خیال کا آداب ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے دِکھائے کھیل ہیں دورِ جدید کے
ہم نے فضا میں دیپ جلائے اُمِید کے

جیشِ وطن نے توڑ دیے دشمنوں کے دانت
ناکوں چنے چبائے عدو نے حدید کے

دشمن ہلاک ہو گیا جب معرکہ ہُوا
مومن کی جان بھی گئی مثلِ شہید کے

ایمان بیچ دے کوئی دنیا کے واسطے
کوئی لٹائے دنیا کو جنت خرید کے

شامل کٹا کے انگلی شہیدوں میں ہم ہوئے
قربان ہو گئے لیے جذبے مزید کے

لوگوں کی عید ہو گئی جب چاند دِکھ گیا
ہم منتظر رہے ترے چہرے کی دید کے

اُسلُوب شیریں دیجیے الفاظ کو جناب
آداب سیکھ لیجیے گفت و شُنید کے

اب تو خیالؔ سوچیے عقبیٰ کے واسطے
دنیا سے لے کے جائیے جنّت کشید کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
Attachments
ہم نے دِکھائے کھیل ہیں  دورِ جدید کے.jpg
ہم نے دِکھائے کھیل ہیں دورِ جدید کے.jpg (173.39 KiB) Viewed 1005 times

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply