اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۷ میں خیالؔ کا آداب

Tarhi Moshaairah -ShoAaraa aur Shayeraat kii TabAaazmayi ke liye

Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar

Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۷ میں خیالؔ کا آداب

Post by ismail ajaz »




اردو بندھن کے مشاعرہ ۴۷ میں خیالؔ کا آداب

عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا پیام آ کے اجل نے سُنا دیا
تھا ایک پنچھی قید قفس میں اُڑا دیا

ہم نے تمام عمر گزاری اسی طرح
جو غم ہوا اسے غمِ جاناں بنا دیا

تم نے ہمیں نظر سے گرایا ہے جس قدر
ہم نے تمہارا مرتبہ اتنا بڑھا دیا

کہتے رہے سبھی سے کہ کیا ہم غلام ہیں
اور پھرغلام بن کے بھی ہم نے دِکھا دیا

تم نے ہمیں دِکھائے سدا سبز باغ اور
ہم نے یقین تم پہ کیا سب لُٹا دیا

گردش میں آ گیا تھا ستارہ جناب کا
قسمت نے آسماں سے زمیں پر بٹھا دیا

مطلب نکال کر ہمیں سب بھولتے گئے
جن کوبھی ہم نے زندگی کا گُر سکھا دیا

اب آپ کو ہماری ضرورت نہیں خیالؔ
اپنی نظر سے آپ نے ہم کو گرا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی محبتوں کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ



Attachments
تھا ایک پنچھی قید قفس میں اُڑا دیا.jpg
تھا ایک پنچھی قید قفس میں اُڑا دیا.jpg (86.96 KiB) Viewed 118169 times

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply