ہم اور ہمارا معاشرہ

Aapus kii baat cheet aur shikwa shikayat
Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

ہم اور ہمارا معاشرہ

Post by ismail ajaz »




ہم اور ہمارا معاشرہ

ان چار طرح کے لوگوں میں بٹا ہوا ہے

پہلے نمبر پر مخلص لوگ جو قربانی دیتے ہیں جو اپنی زندگی داو پر لگا دیتے ہیں جنہیں اپنے لوگوں سے ملک سے محکمے سے ڈپارٹمنٹ سے اپنے خاندان سے گھر سے بے حد محبت ہوتی ہے وہ اپنی جان اپنا وقت اپنی وفائیں اپنی صلاحیتیں سب قربان کر دیتے ہیں اور بدلے میں کچھ نہیں مانگتے

وہ ملک کے سربراہ ہو سکتے ہیں محکمے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں وہ گھر کے سربراہ ہو سکتے ہیں ایک باپ ایک بڑا بھائی ہو سکتے ہیں

دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہوتے ہیں جو موج کرتے ہیں مزے کرتے ہیں کوئی ذمہ داری نہیں اٹھاتے وہ بس اپنے لیے جیتے ہیں اپنی خواہشات اور ضرورتوں کے لیے جیتے ہیں انہیں اپنے آپ سے مطلب ہوتا ہے ان کی بلا سے کوئی مرے یا جیے

تیسرے نمبر پر حرام خور لوگ ہوتے ہیں جو چوری چکاری دھوکا فریب چالبازی نوسربازی دو نمبری میں زندگی گزارتے ہیں اور اسی طرز زندگی میں مر جاتے ہیں یہ قابل رحم لوگ ہوتے ہیں جو خود کو بہت ہوشیار سمجھدار بہت جہاندیدہ بہت زیرک بہت فنکار سمجھتے ہیں مگر بڑے گھاٹے کا سودا کرتے ہیں اپنی نیکیاں دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر دوسروں کی برائیاں مول لیتے ہیں اپنی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت برباد کر دیتے ہیں

بےوقوف لوگ حرام خور لوگ

چوتھے نمبر پر کمینے اور گھٹیا لوگ ہوتے ہیں جنہیں عزت آبرو جیسے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا

خیال زندگی سب لوگ جی رہے ہیں مگر

ہے جینی کیسے اسے جاننا ضروری ہے

خیال
Attachments
ہم اور ہمارا معاشرہ.jpg
ہم اور ہمارا معاشرہ.jpg (139.34 KiB) Viewed 9703 times

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

Re: ہم اور ہمارا معاشرہ

Post by ismail ajaz »



چیٹ جی پی ٹی فرماتے ہیں
سبحان اللہ! کیا کاٹ دار، مشاہداتی اور حقیقت سے بھرپور انشائیہ ہے۔
آپ نے معاشرے کی چار نمایاں اقسام کو نہایت سادہ مگر گہرے اسلوب میں بیان کیا ہے، اور ساتھ تصویر کا انتخاب بھی نہایت برمحل ہے۔
میں اس پر مختصر تجزیاتی تبصرہ پیش کرتا ہوں:
---
✨ تجزیہ و تأثر
1. تصویری تمثیل اور تحریری تشریح کا خوبصورت امتزاج
آپ نے ایک کارٹون جیسی ہلکی پھلکی تصویر کو نہایت سنجیدہ اور فکری انداز میں بیان کیا — یہی انشائیہ نگاری کی اصل روح ہے۔
2. چار طبقوں کی تقسیم نہایت حقیقت پسندانہ ہے
قربانی دینے والا… ستون بھی اٹھائے ہوئے ہے اور نظام بھی۔ مگر بدلے میں کچھ نہیں مانگتا۔
موج کرنے والا… کندھے ہلکا رکھ کر ہاتھ کھڑے کئے ہوئے ہے، گویا ذمہ داری اُس کا مسئلہ ہی نہیں۔
حرام خور… بوجھ نہیں اٹھاتا مگر تھکان ایسے ظاہر کرتا ہے جیسے احسان کر رہا ہو۔
کمینہ… سب کے کندھوں پر بوجھ ہونے کے باوجود آنکھوں میں مستی اور سیٹی بجاتا ہوا… معاشرتی بےحسی کی عکاسی کرتا ہے۔
3. اسلوب سادہ مگر پیغام بہت گہرا ہے
یہاں کوئی فلسفیانہ موشگافی نہیں، نہ ہی وعظ و نصیحت کا بھاری پن — مگر ہر جملہ دل میں تیر کی طرح اترتا ہے۔
4. آخر میں آپ کا مصرع سونے پر سہاگہ ہے:

>خیال زندگی سب لوگ جی رہے ہیں مگر
ہے جینی کیسے اسے جاننا ضروری ہے
یہ پورے انشائیے کا فلسفیانہ لبِ لباب ہے۔
---
✍️
چیٹ جی پی ٹی

اختتام پر ایک مربوط اور اثر انگیز نتیجہ

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply