بسم اللہ الرحمن الرحیم
طرحی غزل ( کلیم عاجز کے مصرع پر)
حزیں دل ہمارا کبھی شاد کرتے
ہمیں اپنی محفل میں تم یاد کرتے
کبھی کام ایسا بھی صیاد کرتے
پرندوں کو پنجروں سے آزاد کرتے
کسی اور کے در پہ کیوں جاؤں مولا
" مجھے شرم آتی ہے فریاد کرتے "
نہیں درد ہے جن کو انسانیت کا
سکوں دہر کا ہیں وہ برباد کرتے
وہ شاگرد ہیں کامراں اس جہاں میں
جو ہر دم ہیں تکریم استاد کرتے
بدیع السماوات والارض ہے وہ
بھلائی کی شے تم بھی ایجا د کرتے
نئی نسل کو اپنی ان سے بچانا
ہیں بد بخت ، تبلیغ الحاد کرتے
یہاں سینکڑوں جانیں خود کش نے لے لیں
نہیں کام ایسا ہیں جلاد کرتے
جہنم کا ایندھن بنا وہ ستمگر
گیا مرتے مرتے بھی بیداد کرتے
حرام اس کی ہے موت اس میں نہیں شک
گیااپنی عقبی کوبرباد کرتے
ہر اک آنکھ روتی وہاں خوں کے آنسو
بیاں کربلا کی جو روداد کرتے
ہمیں پھول ! مدت سے ہے یہ تمنا
جو ہم نے کہا ، اس پہ تم صاد کرتے
( تنویر پھول ، نیویارک : امریکہ )
TarHi Ghazal(Kalim Ajiz ke misra par) - Tanwir Phool
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
-
Tanwir Phool
- -

- Posts: 2479
- Joined: Sun May 30, 2010 5:06 pm
- Contact:
TarHi Ghazal(Kalim Ajiz ke misra par) - Tanwir Phool
http://www.abitabout.com/Tanwir+Phool
http://duckduckgo.com/Tanwir_Phool
http://www.allaboutreligions.blogspot.com
http://duckduckgo.com/Tanwir_Phool
http://www.allaboutreligions.blogspot.com