آئینے کی نظروں سے چھپا کچھ نہیں ہوتا
Posted: Sat Dec 10, 2022 5:38 am
قارئین کی خدمت میں آداب ، ایک ۴ دسمبر ۲۰۲۲ کا لکھا کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس دل میں محبت کے سِوا کچھ نہیں ہوتا
نفرت سے پھر اُس دل کا بُرا کچھ نہیں ہوتا
عادات پتہ دیتی ہیں اچھا کہ بُرا ہے
انسان کے ماتھے پہ لکھا کچھ نہیں ہوتا
سنگھار سے تم اپنے چھپا لیتے ہو سب عیب
آئینے کی نظروں سے چھپا کچھ نہیں ہوتا
ہم خود سے ہی طے کرتے ہیں دنیا کے مراتب
معیارِ اجل چھوٹا بڑا کچھ نہیں ہوتا
مشکوک بنا دیتا ہے ہر ایک نظر کو
جس خط کے لفافے پہ پتہ کچھ نہیں ہوتا
انسان سے وابستہ فقط ہوتا ہے انجام
مرقد کے اِحاطے پہ سجا کچھ نہیں ہوتا
کیوں لے کے قرَض منہ کو چھپا لیتے ہو یارو
جب تم سے تقاضے پہ ادا کچھ نہیں ہوتا
باطل کی رضا کے لیے چپ سادھ لی تم نے
ایمان لٹانے پہ بچا کچھ نہیں ہوتا
کرتے ہو خیالؔ اتنی جو غفلت میں بسر زیست
آخر میں ہے ذلت کے سِوا کچھ نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٓپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ