وقت ملتا ہی نہیں سوچنے کو ذات کا دُکھ
Posted: Fri Nov 22, 2024 11:25 pm
یہ کلام ۸ جولائی ۲۰۲۳ میں لکھا گیا تھا
ارئین کرام آداب عرض ہیں ، ایک تازہ کلام آپ سب کی نذر ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چین لینے نہیں دیتا ہمیں خدشات کا دُکھ
دوسروں سے گلے شکوے کی عنایات کا دُکھ
اس سے بڑھ کر بھی کوئی بات بھلا دکھ کی ہے
جیت کر تجھ کو ہے پھر کھائی ہوئی مات کا دُکھ
صبح نَوکیسے تجھے بول سُجھائی دے گا
اوس میں بھیگی ہوئی کالی سیہ رات کا دُکھ
بے خبر خود سے ہے انسان مگر پھر بھی اسے
گھیرے رکھتا ہے زمانے کی شکایات کا دُکھ
لوگ مرتے ہیں شب و روز یونہی حسرت میں
مار دیتا ہے انہیں اپنے ہی جذبات کا دُکھ
اب تو اُلفت میں بھی اَغراض ہوئی ہیں شامل
زندگی بانٹتی رہتی ہے مکافات کا دُکھ
ہم یونہی رہتے ہیں افکارِ جہاں میں مصروف
وقت ملتا ہی نہیں سوچنے کو ذات کا دُکھ
زندگی کھل کے جیو اپنے طریقے سے خیالؔ
مت بیاں سب سے کرو اپنے خیالات کا دُکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ