قفس میں قید کیا اور بُھلا دیا تجھ کو
Posted: Fri Nov 22, 2024 11:42 pm
یہ کلام ۱۲ ستمبر ۲۰۲۳ میں لکھا گیا تھا
قارئین کی خدمت میں آداب ، ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قفس میں قید کیا اور بُھلا دیا تجھ کو
مقام تیرا گرا کر ہٹا دیا تجھ کو
رُلا رہا تھا تُو اوروں کو دھمکیاں دے کر
کہ تیرے بخت نے آ کر رُلا دیا تجھ کو
ترا نصیب ترے ساتھ کھیل کھیل گیا
پھر آسمان سے نیچے گرا دیا تجھ کو
دکھائے تجھ کو جنہوں نے تھے خواب گلشن کے
انہی نے دشت میں لا کر بٹھا دیا تجھ کو
تری زبان نے لوگوں کو کر دیا گھایل
ترے مزاج نے اب اور کیا دیا تجھ کو
جو مہربان تھے تجھ پر خفا ہوئے تجھ سے
کہ سب کی نظروں نے مجرم بنا دیا تجھ کو
خُدا کے بندوں سے الفت خُدا سے الفت ہے
تری انا نے ہر اک پل بُھلا دیا تجھ کو
سلوکِ ناروا تُو نے سبھی کے ساتھ کیا
تجھے بھی وقت نے اس کا صلہ دیا تجھ کو
خیالؔ تُو نے بغاوت میں سر اٹھایا تھا
کہ دوستوں نے کہیں دھوکا تھا دیا تجھ کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ