Page 1 of 1

تکلیف دے کے کہتے ہو اب مسکرائیں ہم

Posted: Wed Nov 27, 2024 9:45 pm
by ismail ajaz

یہ کلام ۷ نومبر ۲۰۲۳ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تکلیف دے کے کہتے ہو اب مسکرائیں ہم
دل میں اٹھے جو درد تو کس کو دکھائیں ہم

ہم میں ہیں میر جعفر و صادق چھپے ہوئے
سانپوں سے آستین کو کیسے بچائیں ہم

ایسی نگاہِ ناز سے مارا ہے آپ نے
اب آپ کے تو پیار سے مر ہی نہ جائیں ہم

انڈے تو اقتدار کے کوّوے ہی کھائیں گے
دُکھ زندگی کے جھیلتی ہیں فاختائیں ہم

مال و متاع مل کے سبھی لوٹتے رہے
ہم انتظار میں رہے کچھ لوٹ پائیں ہم

اپنی محبتوں کی ہمیں بھیک دیجیے
نظروں سے آپ کی بھی کہیں گر نہ جائیں ہم

دشمن کے ساتھ مل کے وطن کو کریں تباہ
اور پھر وطن سے پیار محبت جتائیں ہم

کیوں اپنے ملک و قوم سے مخلص نہیں ہیں آج
ہم کون ہیں خیالؔ کسے کیا بتائیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ