ہم تمہیں دیکھ کرمسکراتے رہے
Posted: Mon Sep 01, 2025 8:52 pm
یہ کلام ۱۵ جون ۲۰۲۵ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام آپ کی محفل میں پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ہمیں دیکھ کر منہ چھپاتے رہے
ہم تمہیں دیکھ کرمسکراتے رہے
وہ دغا دینے سے باز آئے نہیں
ہم جنہیں پلکوں پر ہیں بٹھاتے رہے
زخم پر زخم دیتے رہے وہ سدا
ہم ہر اک زخم پر جاں لُٹاتے رہے
وہ رقیبوں سے مل کر کریں سازباز
ہم وفاؤں کے نغمے سناتے رہے
دشمنوں نے کوئی چال چھوڑی نہیں
ہم جنہیں اپنے سر پر بٹھاتے رہے
جانتے ہیں تمہاری دغابازیاں
تم تو غیروں سے الفت جتاتے رہے
یو ں محبت میں قائم رہیں دوریاں
دور ہی دور سے دل لگاتے رہے
تم نے ہر بار دھوکا ہمیں ہے دیا
ہم بھی ہر بار دھوکا ہیں کھاتے رہے
آزمائے ہوئے آزماتے رہے
ہم خیالؔ ان کو دل میں بساتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ