اُڑنے کو پنچھی نے پر پھیلائے ہیں
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -

- Posts: 516
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
اُڑنے کو پنچھی نے پر پھیلائے ہیں
یہ کلام ۱۰ جولائی ۲۰۲۵ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت نے ظلم وستم یوں ڈھائے ہیں
غم کے بادل زندگی پر چھائے ہیں
جسم کے پنجرے سے ہو آزاد روح
اُڑنے کو پنچھی نے پر پھیلائے ہیں
زندگی منمانیوں کی ہے ڈگر
زندگی سے سب نے دھوکے کھائے
مرنے والا بے بسی میں مر گیا
لوگ ہمدردی جتانے آئے ہیں
سامنے میت کے ہیں بدخوئیاں
نفرتوں نے پینترے بدلائے ہیں
آئینہ دکھلا رہے ہیں سب ہمیں
ایک عرصے بعد ہم شرمائے ہیں
آپ بھی ارشاد کچھ فرمائیے
آپ کیوں خاموشیاں اپنائے ہیں
آپ نے مرنا مسلماں ہے خیالؔ
آپ دنیا میں جبھی تو آئے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- اُڑنے کو پنچھی نے پر پھیلائے ہیں.jpg (143.33 KiB) Viewed 680 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)