اردو تو محبت سے ہمیں بول رہے ہیں

Kuhnah mashq ShoAraa kaa kalaam jo beHr meiN hounaa zaroori hei

Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar

Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

اردو تو محبت سے ہمیں بول رہے ہیں

Post by ismail ajaz »


یہ کلام ۱۲ جولائی ۲۰۲۵ میں لکھا گیا تھا

قارئین کرام ایک تازہ کلام پیشِ خدمت ہے ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو اہلِ محبت ہیں الگ ان کا جہاں ہے
جس میں نہیں نفرت کا کوئی نام و نشاں ہے

جو کہتے ہیں اس ملک نے ہم کو ہے دیا کیا
سن لیں ، انہیں رہنے کو دیا دل میں مکاں ہے

چلتے ہیں بغاوت کا علم لوگ اٹھا کر
کہتے ہیں غلامی سے نہیں جینا یہاں ہے

سر تن سے جدا ہو گا کہیں جو بھی اٹھے گا
بخشا نہیں جائے گا یہاں ہے کہ وہاں ہے

نفرت کی لگی آگ میں انسان جلے گا
نفرت میں سلگنے سے ہی نفرت کا دھواں ہے

اب اہلِ ادب میں بھی محبت نہیں باقی
نفرت کا فروغ ان کی یہ نفرت کی زباں ہے

اردو تو محبت سے ہمیں بول رہے ہیں
ہم جیسا زمانے میں طرح دار کہاں ہے

دنیا سے ہمیں لوٹ کے جانا تو ہے اک دن
کیا ہو گا وہاں حشر نہیں وہم و گماں ہے

تاریخ بتاتی رہی انساں کو ہمیشہ
فرعون خیالؔ آج بھی عبرت کا نشاں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی محبتوں کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
Attachments
اردو تو محبت سے ہمیں بول رہے ہیں.jpg
اردو تو محبت سے ہمیں بول رہے ہیں.jpg (112.99 KiB) Viewed 792 times

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply