آپ لوگوں سے نظریں چرانے لگے
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -

- Posts: 516
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
آپ لوگوں سے نظریں چرانے لگے
یہ کلام ۲ ستمبر ۲۰۲۵ کو لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام کے ساتھ خیال کا آداب ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم محبت میں پلکیں بچھانے لگے
آپ نظریں بچا کر ہیں جانے لگے
زندگی ہم پہ کرتی رہی جب ستم
آ کے اپنے پرائے ستانے لگے
کس طرح آپ پر ہم بھروسا کریں
آپ دامن جو ہم سے چھڑانے لگے
وقت کی آزمائش نے پرکھا ہمیں
درد پل پل ہمیں آزمانے لگے
جب ہمیں اپنے لوگوں نے ٹھکرا دیا
ہم سے دشمن محبت جتانے لگے
دل سے دل مل گئے پھول سے کھل گئے
غم بھلا کر سبھی کھلکھلانے لگے
دل جو ٹوٹا تو ہونے لگا دردِ دل
زخم ہو کر ہرے مسکرانے لگے
دوستوں نے کنارہ کشی ہم سے کی
ہم جہاں ان کے نزدیک آنے لگے
آپ کی کھل گئی جب حقیقت خیالؔ
آپ لوگوں سے نظریں چرانے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- آپ نظریں بچا کر ہیں جانے لگے.jpg (121.8 KiB) Viewed 878 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)