اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۳ میں خیال
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -

- Posts: 516
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۳ میں خیال
قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۳ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاس کیسے آئے گا ہم سے وہ جب گھبرائے گا
دُور سے دیکھے گا ہم کو دُور سے شرمائے گا
قید میں پنچھی اگر اُڑنے کو پَر پھیلائے گا
اپنی جاں پر ظلم پھر صیاد سے کروائے گا
اس پر اب صیاد کو بالکل بھروسا ہے نہیں
کیا پرندہ قید میں رہتے ہوئے مر جائے گا ؟
مجھ کو زنداں سے نکالو امن کا ضامن ہوں میں
کہہ رہا ہے وہ نکل کر جنگ کو رکوائے گا
آزمایا ہے جسے اس کو نہیں پھر آزما
وہ اگر آیا دوبارہ جان سے تُو جائے گا
زندگی ہے چار دن کی اور پل پل کا فریب
سُر خُروئی آخرت کی کس طرح تُو پائے گا
تیرے سب کرتوت کھل کرہو گئے سب پر عیاں
سامنا لوگوں کا کرنے سے تُو اب کترائے گا
آئینے میں دیکھ اپنی شکل تُو اب تو خیالؔ
کچھ تو کر احساس ورنہ دیکھ تُو پچھتائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- کہہ رہا ہے وہ نکل کر جنگ کو رکوائے گا.jpg (119.81 KiB) Viewed 25784 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)