Page 1 of 1

اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۳ میں خیال

Posted: Thu Oct 16, 2025 12:19 am
by ismail ajaz



قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۳ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا

عرض کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاس کیسے آئے گا ہم سے وہ جب گھبرائے گا
دُور سے دیکھے گا ہم کو دُور سے شرمائے گا

قید میں پنچھی اگر اُڑنے کو پَر پھیلائے گا
اپنی جاں پر ظلم پھر صیاد سے کروائے گا

اس پر اب صیاد کو بالکل بھروسا ہے نہیں
کیا پرندہ قید میں رہتے ہوئے مر جائے گا ؟

مجھ کو زنداں سے نکالو امن کا ضامن ہوں میں
کہہ رہا ہے وہ نکل کر جنگ کو رکوائے گا

آزمایا ہے جسے اس کو نہیں پھر آزما
وہ اگر آیا دوبارہ جان سے تُو جائے گا

زندگی ہے چار دن کی اور پل پل کا فریب
سُر خُروئی آخرت کی کس طرح تُو پائے گا

تیرے سب کرتوت کھل کرہو گئے سب پر عیاں
سامنا لوگوں کا کرنے سے تُو اب کترائے گا

آئینے میں دیکھ اپنی شکل تُو اب تو خیالؔ
کچھ تو کر احساس ورنہ دیکھ تُو پچھتائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ