اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۸ میں خیال

Tarhi Moshaairah -ShoAaraa aur Shayeraat kii TabAaazmayi ke liye

Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar

Post Reply
User avatar
ismail ajaz
-
-
Posts: 516
Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm

اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۸ میں خیال

Post by ismail ajaz »





قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۸ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا

عرض کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا قیامت خیز منظر کوچہء قاتل کا ہے
ہرطرف ظلمت کدہ ماتم کناں باطل کا ہے

بپھری موجوں اور بھنور میں ہو رہی ہیں سازشیں
ناخُدا نے کیوں رُخِ ناؤ کیا ساحل کا ہے

کوئی کتنا بھی مہذب خود کو ٹھہرائے یہاں
آدمیت سے بجز طرزِ عمل جاہل کا ہے

نظرثانی کی ضرورت ہے نئے قانون پر
مت بدرکیجے وطن سے مدعا سائل کا ہے

آدمی جب آدمی سے بے اماں ہونے لگے
جان لو اب پھر زمانہ ملتِ جاہل کا ہے

سانپ تو پھر سانپ ہے جو دودھ پی کر بھی ڈسے
آپ کا اس پر بھروسا فکرِ لا حاصل کا ہے

بے مروّت لوگوں پر تُو مہرباں مت ہو خیالؔ
ان سے بچنے کا ہر اک اقدام ہر عاقل کا ہے

تم خیالؔ اپنے لیے ڈھونڈو کوئی دنیا نئی
اب سوال اپنے لیے اور اپنے مستقبل کا ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ



Attachments
اب سوال اپنے لیے اور اپنے مستقبل کا ہے.jpg
اب سوال اپنے لیے اور اپنے مستقبل کا ہے.jpg (147.53 KiB) Viewed 100468 times

محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا

muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa

Ismail Ajaz Khayaal

(خیال)
Post Reply