Page 1 of 1

اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۸ میں خیال

Posted: Sat Oct 18, 2025 8:44 pm
by ismail ajaz




قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۱۸ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا

عرض کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا قیامت خیز منظر کوچہء قاتل کا ہے
ہرطرف ظلمت کدہ ماتم کناں باطل کا ہے

بپھری موجوں اور بھنور میں ہو رہی ہیں سازشیں
ناخُدا نے کیوں رُخِ ناؤ کیا ساحل کا ہے

کوئی کتنا بھی مہذب خود کو ٹھہرائے یہاں
آدمیت سے بجز طرزِ عمل جاہل کا ہے

نظرثانی کی ضرورت ہے نئے قانون پر
مت بدرکیجے وطن سے مدعا سائل کا ہے

آدمی جب آدمی سے بے اماں ہونے لگے
جان لو اب پھر زمانہ ملتِ جاہل کا ہے

سانپ تو پھر سانپ ہے جو دودھ پی کر بھی ڈسے
آپ کا اس پر بھروسا فکرِ لا حاصل کا ہے

بے مروّت لوگوں پر تُو مہرباں مت ہو خیالؔ
ان سے بچنے کا ہر اک اقدام ہر عاقل کا ہے

تم خیالؔ اپنے لیے ڈھونڈو کوئی دنیا نئی
اب سوال اپنے لیے اور اپنے مستقبل کا ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی توجہ کا طلبگار

اسماعیل اعجاز خیالؔ