اردو بندھن کے مشاعرہ ۲۴ میں خیال
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -

- Posts: 516
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
اردو بندھن کے مشاعرہ ۲۴ میں خیال
قارئین کرام اردو بندھن کے مشاعرہ ۲۴ میں خیال ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے
نکلے ترے فریب سے تیرے حصار سے
ہم نے وفا کے نام پہ جان اپنی وار دی
محروم پھر بھی ہیں ترے ہم اعتبار سے
دی جگہ دل میں تجھ کو لگایا جو تجھ سے دل
بے اختیار ہو گئے ہر اختیار سے
موسم کوئی بھی ہو ہمیں اس سے نہیں غَرَض
دل میں کھلیں گے پھول تو دل کی بہار سے
کہتے ہیں زندگی تو فقط چار دن کی ہے
دو آرزو سے ہے جڑی دو انتظار سے
آئے گی موت زندگی کے اختتام پر
ہے کون جو بچے گا کبھی اس کے وار سے
ہم سے وہ نفرتوں کا ہیں اظہار کر رہے
ہم جن کو دیکھتے ہیں محبت سے پیار سے
رب کو بُھلا کے کس طرح سے تُو بتا خیالؔ
کوئی گزارے زندگی چین و قرار سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- ہم جن کو دیکھتے ہیں محبت سے پیار سے.jpg (115.48 KiB) Viewed 46290 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)